زیادہ فرق تو نہیں اِس پار اور اُس پار۔ پھر یہ آوازیں کیوں سنتے ہیں میرے کان کہ میں پاکستانی باشِندہ ہوں اور کیوں کوئی بار بار چیخ کر بولتا رہتا ہے کہ میں ایکھندوستانی ہوں میں ایک مسلمان ہوں؛ ہندو ہوں؛ سِکھ ہوں؛ اور عیسائی ہوں۔ کیوں کوئی نہیں بولتا اور یہ سوچتا کہ میں ایک انسان ہوں
وہ چچا کے ساتھ اپنے ننے بھائی کو لے کے لاہور کے راستے کو ہرن کی چستی لیے پھلانگ رہی تھی۔لیکن یکدم بھگدڑ مچی اس کا ننا بھائی جو کالی قمیز پہنے تھا اب لال ہو چکی تھی۔اس کی سانس اب تھم چکی تھی۔وہ آسمان کی طرف دیکھ کے ایسے چلا رہی تھی۔
The story goes on to unravel what really happened to Laila, and how she had to go through a long route of betrayals. The drama will highlight how it is easier for society to point fingers at women as opposed to providing them safety. For it is only after Laila is recovered, that she shames the suspects turning a blind eye to their own faults.
روزینہ کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔ اسے سمجھ تو نہیں آ رہا تھا، اور آنسو خودبخود جاری ہوتے گۓ۔ ابھی تو اس نے باغ بھی جانا تھا، اور اسے بھوک بھی لگی تھی۔ اس کے پاس تو میٹھی ٹکیاں بھی نہیں تھی۔ اب وہ کیا کرے گی۔ عبد الصبور نے سب کو سمجھایا کہ چادر سے منہ ڈھک لیں تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔ کوئی پوچھے تو کہ دیں کہ عزیز کی شادی میں جا رہے ہیں۔
اسے یاد آرہا تھا ایک رات جب وہ وہ اپنے بابا کو بتا رہی تھی کہ آزاد ملک جاتے ہی وہ سب سے پہلےاپنی سہیلی فزا سے ملے گی۔ اور سکول میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھے گی۔ نئے اور آزاد ملک کے خواب دیکھ کر وہ بہت خوش محسوس کرتی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے کی قربانی اتنی سخت ہو گی اس نے کبھی سوچا نہیں تھا۔
The sound of the water drops was haunting her constantly. The sky outside was bland, lacking all the sunlight. Her life was no different. It lacked sunshine, and it had been like that for more than a year or two.
اتنا کچھ لٹنے کے بعد یہ آخری سہارا بھی سرک گیا۔ اب تو اماں جان کی طرف بھی الو ہی بولتے ہوں گے۔ کس منہ سے وہاں جاؤں گی یہ اجڑا سہاگ لے کر۔ ٹانگے میں بیٹھے نعیم میاں مسلسل بولے چلے جا رہے تھے۔’بھابی بیگم آپ فکر نہ کریں، اللہ کے فضل سے ہم ان انگریزوں کو نکالا۔